85

اسلام آباد کی لال مسجد سے متصل مدرسۂ حفصہ سیل‘

اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے لال مسجد سے ملحقہ مدرسے کو سیل کردیا ہے جس کی وجہ سے وہاں پر موجود 150 سے زیادہ طالبات عمارت کے اندر قید ہو کر رہ گئی ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کا موقف ہے کہ مسجد کے ساتھ خواتین کا کوئی مدرسہ نہیں ہے اور جس جگہ پر خواتین ہیں وہ حصہ مردوں کے لیے مختص ہے اس لیے وہاں خواتین نہیں رہ سکتیں۔

خواتین کے مدرسے جامعہ حفصہ کی انتظامیہ نے ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

مدرسہ جامعہ حفصہ کی پرنسپل امِ حسان کا، جو لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ ہیں، کہنا ہے کہ طالبات لال مسجد کے ساتھ والے حصے میں دینی تعلیم حاصل کرتی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اگرچہ مسجد کا وہ حصہ جہاں پر طالبات دینی تعلیم حاصل کر رہی ہیں، چھوٹے بچوں کی درس گاہ ہے لیکن طالبات کے وہاں جانے کے بعد لڑکے مسجد میں منتقل ہو گئے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ام حسان نے الزام عائد کیا کہ لال مسجد کے موجودہ خطیب عامر صدیق ضلعی انتطامیہ کی مدد کے ساتھ ان طالبات کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ جامعہ حفصہ کی طالبات گزشتہ ساڑھے تین ماہ سے اس جگہ پر دینی تعلیم حاصل کر رہی ہیں لیکن اس دوران کوئی مشکلات پیش نہیں آئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ نے ایک منصوبے کے تحت گزشتہ دو روز سے نہ صرف لال مسجد کی طرف جانے والے راستے کو رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کر رکھا ہے بلکہ طالبات کی رہائش گاہوں کو بھی تالے لگا دیے ہیں۔

ام حسان نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے اس عمارت کے گیس کے کنکشن بھی کاٹ دیے ہیں اور محصور طالبات کو کھانا بھی نہیں بنانے دیا جارہا۔

ان کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ ان طالبات کو کھانا پہنچانے کی بھی اجازت نہیں دے رہی اور نہ ہی کسی کو ان سے ملنے دیا جارہا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اُنھیں معلوم ہوا ہے کہ وہاں پر کچھ طالبات کی طبیعت بھوک کی وجہ سے خراب ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ لال مسجد کے موجودہ خطیب عامر صدیق مولانا عبدالعزیز کے بھانجے ہیں اور مسجد کی خطابت سے متعلق ان میں اختلافات کی خبریں بھی گردش میں ہیں۔

اسلام آباد کے سٹی سرکل کے پولیس افسر عامر نیازی نے بی بی سی کو بتایا کہ لال مسجد کا کوئی بھی حصہ خواتین کے لیے مختص نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اُنھیں ضلعی انتظامیہ کی طرف سے حکم ملا تھا کہ وہ جگہ کو سیل کردیں تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔

اُنھوں نے کہا کہ مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین پولیس اہلکاروں کو بھی جائے وقوعہ پر تعینات کیا گیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ خفیہ ادروں کی طرف سے یہ رپورٹس ملی تھیں کہ لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز جامعہ حفصہ کی تعمیر کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا خفیہ اداروں نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ وہ اس ضمن میں خواتین اور جامعہ حفصہ میں زیر تعلیم طالبات کو ڈھال کے طور پر بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون میں خواتین کے مدرسے موجود ہیں جہاں پر طالبات کی تعداد 3 ہزار سے زیادہ ہے۔

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں سنہ2007 میں لال مسجد میں فوجی آپریشن کے دوران ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں لال مسجد کی سابق انتظامیہ کے بقول خواتین بھی شامل تھیں۔ تاہم ضلعی انتظامیہ اس دعوے کی تردید کرتی ہے۔

لال مسجد اسلام آباد کے سیکٹر جی سِکس میں واقع ہے اور اسی علاقے میں نیب راولپنڈی کا دفتر بھی ہے جہاں پر ان دنوں پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں ہیں۔

اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے اس پورے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے جہاں پر پولیس کے ساتھ ساتھ رینجرز کے اہلکار بھی تعینات ہیں۔ اس طرف جانے والے راستے کو خاردار تار لگا کر بند کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات درپیش ہیں۔

دینی جماعتوں پر نظر رکھنے والے صحافی علی شیر کا کہنا ہے کہ مولانا عبدالعزیز اور ان کے بھانجے عامر صدیق لال مسجد پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اپنا اپنا اثرورسوخ استعمال کرر ہے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ مولانا عبدالعزیز کا موقف ہے کہ لال مسجد سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کیا جائے جس میں خواتین کے مدرسےجامعہ حفصہ کی تعمیر کے ساتھ ساتھ لال مسجد کے خلاف ہونے والے فوجی آپریشن میں ہلاک ہونے والوں کے ورثا کو دیت بھی ادا کی جائے۔

علی شیر کے مطابق اس وقت بھی مولانا عبدالعزیز کا اثرورسوخ لال مسجد کے موجودہ خطیب عامر صدیق سے زیادہ ہے۔

جامعہ حفصہ کی پرنسپل ام حسان نے بھی ان اختلافات کی تصدیق کی ہے اور الزام عاید کیا ہے کہ عامر صدیق کے پاس دینی تعلیم سے متعلق کوئی بھی ڈگری نہیں ہے اور وہ ضلعی انتظامیہ کی ملی بھگت سے لال مسجد کے خطیب بن گئے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اسلام آباد کی عدالت نے جب سنہ 2008 میں لال مسجد کو دوبارہ کھولنے کا حکم دیا تھا تو اس وقت عدالت نے ان سے ( ام حسان ) سے پوچھا تھا کہ چونکہ مولانا عبدالعزیز تو قید میں ہیں تو ان کی جگہ خطیب کے فرائض کون انجام دے گا۔

ام حسان کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے عدالت میں عامر صدیق کا نام دیا تھا تاکہ وہ اس وقت تک خطیب کی ذمہ داریاں ادا کرسکیں جب تک مولانا عبدالعزیز رہا نہیں ہوجاتے۔ اُنھوں نے کہا کہ مولانا عبدالعزیز کی رہائی کے بعد بھی وہ خطیب کے عہدے سے چمٹے رہے اور انتظامیہ کی مدد سے اُنھوں نے مولانا عبدالعزیز کی چھٹی کروا کر خود مسجد کے مستقل خطیب بن گئے۔

لال مسجد کا انتظام محکمۂ اوقاف کے ذمے ہے۔عامر صدیق سے ان کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا لیکن ان سے بات نہیں ہوسکی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں