13

آئیس مافیا کی آزاد کشمیر پر یلغار تحریر:۔ لیاقت بشیر فاروقی

آئیس مافیا کی آزاد کشمیر پر یلغار
تحریر:۔ لیاقت بشیر فاروقی ممبر مجلس عاملہ مظفرآباد پریس کلب
ٹیلر نے جب پوری دنیا پر قابض ہونے کے متعلق سوچا تو اس کی فوج میں پہلے سے موجود تین کمزوریوں نے اس کا سارا پلان ناکام کر دیا، جن میں بھوک،پیاس اور نیندکا خمار سر چڑ ھ کر بولتا تھا ان کمزوریوں پر قابو پانے کے لئے اور اس طرح وہ ان پر فتح حاصل کرتے ہوئے اپنا خواب شرمندہ تعبیر کر سکے کہ جرمنی کے بادشاہ اور انسانیت کے سب سے بڑے قاتل نے اپنی فوج کو فعال کرنے کے لئے اپنے سائنس دانوں کو ٹاسک سونپا کہ وہ اپنے تجربات کے ذریعے کوئی ایسی دواء ایجاد کریں جسکے استعمال سے انسان کو بھوک پیاس اور نیند محسوس نہ ہو،اس طرح کئی سال کی سائنسی جستجو کے بعد سائنس دانوں نے ایفیڈرین ڈرگ کے استعمال سے میتھ کرسٹل بنایا جسے آج آئیس کے نام سے ہمارے معاشرے میں جانا جاتا ہے یہ خدا کا وہ عذاب ہے جو اب یورپی ممالک سے ایشیائی ممالک میں تیزی سے داخل ہونے کے بعد اب آزاد کشمیر پر حملہ آور ہو چکا ہے آئیس مافیا میں دولت کے پجاری شامل ہیں اور ایسے بے روزگار پڑھے لکھے نوجوان اس زہر کو نسل نو میں پھیلانے کا ذریعہ بن رہے ہیں جو راتوں رات کروڑ پتی بننے کی خواہش مند ہوتے ہیں اس مافیا نے منظم طریقے سے میڈیکل کالجز، جامعات اور مختلف تربیتی اداروں کے ذہین اور پڑھاکو قسم کے بچوں کو شکار کرنا شروع کررکھا ہے جن کی آنکھوں میں سہانے مستقبل کے دیے روشن ہیں اور جن سے ان کے والدین نے گہری امیدیں وابستہ کررکھی ہیں اور جو آنے والے وقتوں میں ملک و قوم کا سرمایہ کہلاتے ہیں انتہائی با خبر ذرائع کے مطابق پاکستان بھر میں تقریباً 14 لیبارٹریز میں یہ مکروہ کام جاری ہے جہاں آئیس تیار کر کے پاکستان کے تمام صوبوں سمیت آزاد کشمیر میں سپلائی کی جارہی ہے، یہ ایک ایسا نشہ ہے جس کی وجہ سے نیند اور بھوک ختم ہو جاتی ہے جبکہ یاداشت کچھ دیر کیلئے انتہائی تیز ہو جاتی ہے اور دماغ تیزی سے کام کرنے لگتا ہے مگر بعد ازاں اس زہریلے نشہ کرنے والے کی یاداشت مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے انسانی جسم سے ہڈیوں اور گوشت کا تعلق ختم ہو جاتا ہے، دانت گل کر گر جاتے ہیں یہ نشہ کرنے والوں میں خودکشی کا رجحان زیادہ ہوتا ہے آئیس استعمال کرنے والوں کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے بازوں پر کٹ لگاتے رہتے ہیں جس سے انھیں سکون میسر آتا ہے آئیس کا نشہ کرنے والوں میں اکثریت صنف نازک کی ہوتی ہے کیونکہ ان ہارمونز کو اس نشہ سے زیادہ سکون حاصل ہوتا ہے آئیس کے استعمال سے گلے کے تمام امراض انسان پر حملہ آور ہو جاتے ہیں انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر کی جامعات، میڈیکل کالجز اور ایمز ہاسپیٹل امبور میں بیرون آزاد کشمیر سے تعلیم و تربیت کی غرض سے آنے والے اس موذی نشہ کو متعارف کروانے کا ذریعہ بن رہے ہیں، اس طرح مقامی سطح پر مختلف اداروں کے مخبر، لاری اڈاوں میں ہاکر، ڈرائیورز اور مختلف گیسٹ ہاؤسز پر کمیشن ایجنٹ، منشیات مافیا کی پشت پناہی اور ان کے لئے کام کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں ذرائع کے مطابق مظفرآباد میں 1996 سے 1998 تک شہر کی کریم زہین ترین بچوں کو نشے کی لت بھی میڈیا سے تعلق رکھنے والے ایک فوٹو گرافر نے لگائی جو آج بھی مختلف اداروں محکمہ پولیس اور دیگر اداروں کے لئے مخبری کے فرائض سرانجام دے رہا ہے، یہ بدنام زمانہ فوٹو گرافر مخبر دارالحکومت کے مقتدر اداروں کی پکڑ سے اس لئے محفوظ رہتا ہے کیونکہ یہ ان کی کارکردگی میں اضافہ اور تشہیرکا بھی موثر ذریعہ بنتا ہے اس وقت دارالحکومت مظفرآباد اور گرد نواح میں مشہور ترین مقامات جہاں، چرس، شراب، افیون، ہیروئن، با آسانی دستیاب ہیں میں صدر ہاؤس سمیت امبور، رنجاٹہ، بیلہ نورشاہ، جلال آباد، لاری اڈا، چہلہ بانڈی، پٹہکہ، سما ں بانڈی، گڑھی دوپٹہ ہیں جہاں مبینہ طور پر محکمہ پولیس میں موجود عرصہ دراز سے ایک ہی جگہ پر تعینات ڈی ایف سی سے لیکر محرر تک کی پشت پناہی میں یہ مذموم دھندہ منظم طریقے سے جاری ہے مگر اب ہیروئن جیسے مہلک نشہ کے بعد آئیس مافیا ایک نئے عذاب اور طوفان کی طرح آزاد کشمیر کے مستقبل کو اپنی لپیٹ میں لینے کے لئے پاؤں پھیلا رہا ہے مگر کسی کو کانوں کان خبر نہیں، زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو ریاست کے ایگزیکٹو سمیت درجنوں بیورو کریٹ، ایلیٹ کلاس کے نام منشیات نوشی میں زدو عام ہے، ایسی خطرناک صورت حال میں اس طوفان کے سامنے بند کون باندھے گا، یہ وہ چبھتا ہواسوال ہے شاید ہی اس کا کوئی جواب دے سکے، آخرمیں دعا ہے کہ اللہ میرا اور ہمارا اور نسل نو کا حامی و ناصر ہو اور اس عفریت سے ہمارے مستقبل کے معماروں کو بچائے۔ امین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں