25

(کشمیر کی آواز بنو)

عوامی عدالت
تحریر (امجدفاروق) 26.08.19
(کشمیر کی آواز بنو)
کافی دنوں کی ریسٹ کے بعد سوچا اپنے قلم کے ذریعے پھر اُس قوم کو جگانے کی کوشش کی جاٸے جس کے اندر سے انسانیت کا درد عملًا ختم ہوتا نظر آ رہا پے قارٸین اس وقت اُس کشمیر کے اندر مودی کی تباہی اور بربادی کے قصے زبان زد عام ہیں ہر طرف درد دل رکھنے والے لاکھوں میں چند ہزار لوگ اُس پار کے بھاٸیوں کا درد محسوس کرتے ہوٸے سڑکوں پہ آتے ہیں چیختے ہیں چلاتے ہیں اور پھر اُنکی آوازیں دبانے کے لیے وہ نوسر باز گروپ سامنے آجاتا ہے جس کے سینے میں دل کی جگہ شاید پتھر رکھا ہو پانچ اگست سے لے کر آج تک مقبوضہ کشمیر کے اندر انسانیت سسک سسک کر دم تو ڑ رہی ہے ماوں کے سامنے اُسکی بیٹی کی عزت تار تار کی جارہی ہے بیٹے ماوں کے سامنے اغواء کر کے لاشیں تحفے میں بھیجی جا رہی ہیں اور اس خطہ کے اندر اقتدار کی کرسی پر بیٹھے بد مست ہاتھی صرف ایک بیان دے کر لولی لنگڑی سوچ کی مالک قوم سے داد وصول کیے جا رہے ہیں ہر طرف ایک ہی آواز کے ہمارے لیڈر نے بیان دے دیا غفورے سے بھی اس بیان کے بارٕے میں راٸے لی اُس نے بھی کمال کی بات کی کہ دیکھو صاحب اس خطہ کی حکومت کے ہیڈ کے بیان کے بعد کشمیر میں قتلِ و عام رک گیا وہاں اب بیان کے بعد ہر طرف چہل پہل جاری ہے انڈیا کی دس لاکھ فوج بیان کے بعد کہیں گمنام مقام پر منتقل ہو گٸی اب وہاں ماٸیں بہنیں بغیر کسی خوف و خطرے کے بازاروں میں جاتی ہیں وہاں کالجز یونیورسٹیز میں اس خطہ کے وزیر اعظم کے بیان کو سلیبس میں شامل کرکے اس پر مقالے لکھے جا رہے ہیں مودی خوف کے مارے اخبارات کا مطالعہ بھی نہیں کرتا کیونکہ ہمارے اس بیان نے ایسا تہلکہ مچایا ہے کہ بس کیا بتاوں صاحب اس خطہ کے اندر ہی دیکھ لیں ہر طرف اس بیان کے تبصرے زبان زدِ عام ہیں کیوں نہ ہوں تبصرے صاحب یہ قوم تو زبانی بیانات کی روشنی میں ہی ستر سال گزار چکی الیکشن میں بیان اپوزیشن میں بیان ایک یہ بیان ہی تو ہے جو دے دیا جاتا ہے اور ہماری قوم شادیانے بجا کر خوب داد دیتی ہے لیکن غفورے کی آنکھیں اُس وقت نم ہو گٸی جب پھر سُنا کہ اس بیان کے بعد مودی کی ظالم فوج نے بیان کی پرواہ نہ کرتے ہوٸے مظلوم کشمیری بیٹی کو ماں کے سامنے برہنہ کر کے عزت بھی لوٹی اور پھر سپیکر پر اُسکی چیخیں جہاں ان دنیا داروں کو سناٸیں وہاں اُس بیٹی کیا بیٹیوں کی چیخیں عرش أولی پر بھی جاپہنچیں کہ اس پوری دنیا میں بسنے والے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کو کشمیری ماوں بہنوں کی پکار نظر نہ آٸی ایک بوڑھا شخص گیلانی آوازیں دے دے کر بے بس ہو کر محصور کر دیا گیا کنٹرول لاٸین توڑنے کی کال بھی قلعاں منشاءآباد سے اٹھی لیکن بے حسی کے اس دور میں نوجوانوں نے لبیک تو کہا لیکن اس ریاست کی مجبوریاں سامنے آگٸیں سردار فاروق ارشد کو یہ کہہ کر روک دیا گیا کہ مناسب وقت پر کوٸی بڑی کال آنے والی ہے آپ انتظار کریں لیکن اس پر بھی ستم ظریفی یہ کہ نرم بستر کے اندر بیٹھ کر تحریک آزادی چلانے والے ایک دفعہ پھر نوجوانوں کو مایوس کرنے پر آگٸے اور کہیں نہ توڑنے کی باتیں اور کہیں سب کو کال دینی چاٸیے اور کہیں اسلحہ نہیں ہے کا بہانہ کر کے فیس بکی جہاد کو پروموٹ کرنے میں لگے رہے قارٸین یہ وقت ہے اور اگر اس وقت جب کے انڈیا نے خود کنٹرول لاٸین کی حیثیت کو ختم کر دیا ہے اگر آج بھی اس خطہ کے اندر بے حسی اور مخالفت براٸے مخالفت پر کام ہوتا رہا تو ایک وقت ہم پر بھی آٸیگا اور ہماری ماٸیں بہنیں بھی چیخیں گی اور انھیں بھی بچانے کوٸی نہیں آٸیگا ان لمحات کو اپنا مستقبل سمجھ کر اب ہر کشمیری کو قربانی کے لیے تیار ہونا پڑیگا جنگیں جذبوں سے لڑی جاتی ہیں اپنے جذبے کو جلا بخشنی ہو گی اپنے ایمان کو حرارت دینی ہو گی کیونکہ آج وہ کشمیری ہماری راہیں دیکھ رہے ہیں آو مسلمان اپنے اُن معصوم اور مظلوم بھاٸیوں کے لیے آواز خود بھی بلند کریں اور اگر خود کچھ نہیں کر سکتے تو اُن لوگوں کی حوصلہ افزاٸی تو کریں جو عملی طور پر کبھی قلم کے ذریعے اور کبھی مظاہروں کے ذریعے مودی جیسے سفاک شخص کا چہرہ سامنے لا رہے ہیں آٸیں آج اتحاد و اتفاق سے ایک دوسرے کوبرداشت کر کے اُس پار کے کشمیریوں کے دستو بازو بنیں جو تاریخ کے سب سے کربناک دور سے گزر رہے ہیں ۔ اللہ سب کا حامی و ناصر ہو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں