47

مودی حکومت نے کشمیر میں بارُود کو چنگاری دکھائی دی

تحریر : رفعت وانی

سب سے پہلے تمام دنیا کے مسلمانوں کو عید قربان مبارک ہو۔

میں کوئی پروفیشنل رائیٹر نہیں ہوں ، نہ ہی سیاسی تجزیہ نگار ہوں۔ سو میں جو بھی لکھتی ہوں موجودہ صورتِ حال کو دیکھ کہ تجزیہ کرتی ہوں اور آج کا تجزیہ بھی ایک غیر جانبدار اور اپنے جذبات کے اظہار کے لیئے لکھ رہی ہوں۔

بھارتی آئین میں جموں کشمیر بارے آرٹیکل تین سو ستر پر میرے سمیت سب بات کر چُکے ہیں ، بہت سے دانشور اس پر لکھ چُکے ہیں۔ کہ یہ غیر آئینی اقدام ہے وغیرہ وغیرہ مگر میں آج کے دن اس پر بات نہیں کرنا چاہتی۔ جو مودی گورنمنٹ نے کیا سو کیا مگر مجھے جو ہو گیا اُس سے زیادہ جو ہو رہا ہے اُسکی فکر ہے اور اُس سے ذیادہ اُسکی جو آنے والے دنوں میں ہو گا۔

مودی کا کشمیر میں دو لاکھ سے ذائد مزید فورسز بھیجنا ، مودی حکومت کی بوکھلاہٹ اور آرٹیکل تین سو ستر ہٹنے کے بعد وادی میں اُٹھنے والی آوازوں اور سروں کے خوف کی ایک جھلک دکھاتا ہے۔ مودی کو اندازہ ہے کہ صرف فوج ہی ہے جو لوگوں کو گھروں میں محصور رکھے گی ورنہ کرفیو ہٹنے کے بعد حالات اور دُنیا بھر سے جموں کشمیر کے حق میں اُٹھتی آوازوں کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ مودی چاہتا ہے کہ جب تک کرفیو نافذ ہے تب تک انڈیا دُنیا کو باور کروائے گا کہ اُس کا اقدام جموں کشمیر کے لوگوں کے حق میں کیا گیا ہے اور اس عرصہ میں کشمیر میں کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وادی میں حالات ٹھیک ہیں۔

اس ڈرامہ کے مرکزی کردار مسٹر اجیت دوول ہیں۔ جو اس وقت کشمیر اورجموں کے دورے پر ہیں۔ اور مختلف ویڈیو پیغامات بنا کر سوشل میڈیا پر وائیرل کر رہے ہیں۔

امن ڈرامہ کے مرکزی کردار دوول کی ویڈیوز

ڈرامہ نمبر ۱:

مودی۔ امت شاہ اور دوول دنیا کو باور کروانا چاہتے ہیں کہ کشمیر میں حالات نارمل ہیں اور کشمیری آرٹیکل تین سو ستر کو قبول کر چُکے ہیں۔ اس کے لیئے پہلی ویڈیو مسٹر دوول نے آرٹیکل تین سو ستر ہٹانے کے تین دن بعد ساوتھ کشمیر سے جاری کی۔ اس ویڈیو میں دکھایا گیا کہ دوول سڑک کے کنارے بیٹھے کچھ کشمیری بزرگوں کے ساتھ کھانا کھا رہے ہیں اور یہ کہتے سُنائی دے رہے ہیں کہ کشمیر میں تعمیر و ترقی کی جائے گی۔ وہاں پر بیٹھے دو تین لوگ خاموشی سے سر جھکائے ڈرے سہمے سے ان کی باتیں خاموشی سے سُن رہے ہیں۔ اور ارد گرد کی تمام دُکانیں بند ہیں اور ٹریفک کی بھی آمد و رفت دکھائی نہیں دے رہی۔

ڈرامہ نمبر ۲۔

دوسری ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ بھیڑ بکریوں کے ساتھ کھڑے ہو کہ ویڈیو بنوانے کا مقصد بھی صرف دُنیا کو یہ باور کروانا ہے کہ کشمیری عید قربان کی خریداری میں مصروف ہیں مگر جھوٹ کا وجود نہیں ہوتا ۔ جھوٹ ہوا کی طرح موجود ضرور ہوتا ہے مگر دکھتا نہیں۔ وہی حال اس وقت مودی گورنمنٹ کا ہے۔ جو جھوٹ کے پلندے اپنے میڈیا کے زریعے اپنی عوام اور دُنیا تک پہنچا رہے ہیں مگر حقیقت میں میں اُس کا کوئی وجود اس وقت وادی میں موجود نہیں۔

ڈرامہ نمبر ۳:

کل ڈی ڈبلیو نیوز پر ایک آرٹیکل پڑھنے کو ملا جس کی رو سے بنکوں کو فعال بنایا گیا اور ڈھائی سو اے ٹی ایم مشینیں فعال بنائی گیئں تاکہ لوگ عید کی شاپننگ کر سکیں۔ اور کرفیو میں بھی نرمی کا اعلان کیا گیا۔

یہاں اب کچھ سوالات جنم لیتے ہیں جن کے جوابات یا مودی جی دے سکتے ہیں، یا امت شاہ، یا ڈرامہ نگار و مرکزی کردار اجیت دوول۔

۱۔ اگر کشمیر کے حالات اتنے ہی نارمل ہیں تو نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا کو رسائی کیوں نہیں دی جا رہی؟؟

۲۔ اگر لوگ خوش ہیں تو اتنی آرمی کو منگوانے کا کیا مقصد ہے؟

۳- اگر حالات اتنے ہی اچھے ہیں تو جموں کشمیر کے میڈیا سیل کو کیوں پابند سلاسل کیا گیا ہے؟

۴- حالات اگر اتنے ہی اچھے ہیں تو دُکانیں کیوں بند ہیں؟ اے ٹی ایم مشینوں کا لوگ کیا کریں گے جب دُکانیں ہی بند ہیان؟؟

۵- عید کے جانور خرید کے لوگ کیا کریں گے جب ہمسائے کو ہمسائے کی خبر لینے کی اجازے نہیں نہ ملنے کی۔؟

۶۔ حالات اگر اتنے ہی سازگار ہیں تو تمام مواصلاتی نظام کو درہم برہم کرنے کی وجہ؟

۷۔ سب سے بڑھ کہ یہ کہ سیاسی قیادت جیسا کہ محبوبہ مفتی، عمر عبداللہ، انجینئر رشید وغیرہ کو قید کرنے کی وجہ؟ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیشہ ہندوستان کے آئین کی حمایت کی اور خود کو ہندوستانی ماننتے رہے۔

ہندوستان بارُود کو چنگاری دے رہا ہے۔

مسٹر مودی، اجت دوول اور امت شاہ کو اندازہ نہیں کہ وہ جذبات کے بارود کو چنگاری دے رہے ہیں۔ اور جس دن یہ بارود پھٹا اُس دن کُہرام آئے گا۔

پچھلے سات دن سے وادی مکمل بند ہے۔ آج عید کے دن بھی کشمیر کی کسی بھی بڑی مسجد میں نمازِ عید ادا نہیں کرنے دی گئی۔ مواصلاتی نظام بھی بحال نہیں ہوا۔ گھروں سے دور ہم سب کشمیری اپنے اپنے خاندان کی خیریت جاننے کو بے تاب ہیں۔

مودی سرکار کو لگتا ہے کہ وہ یہ جنگ جیت چُکے ہیں، اُنہیں لگتا ہے کہ بندوق کے زور پر ہم کشمیریوں کو دبانے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور انہیں یہ بھی لگتا ہے کہ حریت قیادت اور کارندوں کو نظر بند کر کے ، سیاسی قیادتوں کو بند کر کے ہم اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو گئے ہیں مگر وہ نہیں جاننتے کہ اُن کا پالا کسی عام قوم سے نہیں پڑا ہے۔ اُس قوم سے پڑا ہے جسکی اپنی کوئی آرمی نہیں ، اُن کے پاس ہتھیار نہیں ، کوئی ایٹم بم نہیں مگر وہ قوم پچھلے بہتر سال سے ہندوستانی سرکاروں کے سینوں پر اپنے جذبوں سے اور اپنے خون اور جانوں کی قربانی دے کہ مونگ دَل رہے ہیں۔

اسی خوف سے بھپلائی ہوئی مودی سرکار کی عقل کو تالے پڑ چُکے ہیں، وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آخر وہ کشمیریوں کو گھٹنے ٹیکنے پر کیسے مجبور کریں اور اُن کے پاس جو آخری ہتھیار ہے کرفیو وہلگا دیا گیا ہے۔ اب مودی گورنمنٹ کس بات کہی انتظار میں ہے؟ کہ لوگ گھروں سے نعرے لگاتے باہر آئیں کہ ہم نے بھارت سرکار کا فیصلہ قبول کر لیا ہے یا مودی سرکار ایک سال کے لیئے اتنی بھاری فوج کو کشمیر میں تعنات کرنے کے لیئے تیار ہے؟ اور کیا گارنٹی ہے کہ ایک سال ایک کروڑ سے ذائد عوام کو قید کرنے کے بعد کشمیری قوم مودی کے فیصلے کو مان لے گی؟

مودی نے آرٹیکل تین سو ستر ہٹا اُس بارود کوچنگاری دی ہے جو بہتر سال سے پرُامن طریقے سے اپنے جائز حقوق مانگ رہا تھا۔ مودی سرکار نے اُن لوگوں کے نظریے کو تقویت بخشی جو بندوق کے زور پر کشمیر کی آزادی کی بات کرتے تھے اور اب صرف کرفیو اُٹھنے کی دیر ہے اُس کے بعد ہندوستان کے تمام دریا بھی اس بارود میں لگی آگ کو بجھانے میں ناکام رہیں گے۔ شیر تب تک بے ضرر ہوتا ہے جس تک سویا ہو یا قید میں ہو اُس کے بعد وہ مقابلہ کرتا ہے اپنی پوری طاقت کے ساتھ۔ ۔ ہندوستان کی حکومت سمجھتی ہے کہ کشمیریوں کے ہاتھوں میں صرف پتھر ہیں اور ہمارے ہاتھوں میں جدید اصلحہ مگر وہ اس حقیقت سے با بلد ہیں کہ کسی قوم کو بندوق کی نوک پر تسخیر نہیں کیا جا سکتا ورنہ آج بھی حکومتِ برطانیہ کا ہندوستان کی سرزمین پر راج ہوتا۔

قربان عید اور وادی کے حالات

آج عید قربان کے موقع پر وادی مکمل طور پر بند ہے ۔ مواصلات کا نظام بھی بحال نہیں ہوا۔ پورے کشمیر کی کسی بھی بڑی مسجد میں نماز عید ادا نہیں کرنے دی گئی۔ تاکہ لوگوں کو بڑی تعداد میں جمع ہونے کا موقع نہ مل سکے۔

آج جگہ جگہ وادی میں مظاہرے کیئے گئے اور انڈین میڈیا کی جانب سے وادی کی بجائے جموں کی کسی مسجد کے نظارے کروائے گئے جہاں آٹھ دس لوگ موجود تھی جنہوں نے مسجد پر ہندوستان کا جھنڈا لہرایا۔ یہ ڈرامہ بازی ذیادہ دیر تک چلنے والی نہیں۔ مودی سرکار کے پاپ کا گھڑا بھر گیا ہے اور بوکھلایا ہوا مودی اور اُس کی کابینہ اور بکا ہوا میڈیا دُنیا کو یہ باور کروانے میں مصروفِ عمل ہے کہ کشمیر میں سب ٹھیک ہے۔

مگر بارُود چنگاری پکڑ چکا ہے بس اب دھماکے کی آواز سُننا باقی ہے۔ اور جس دن لوگوں کے سروں سے کرفیو ہٹا ان کی آرمی کو بھاکنے کا راستہ بھی نہیں ملے گا۔

ظلم جب حد سے بڑھ جاتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں