6

عامر کی ریٹائرمنٹ: ٹیسٹ کرکٹ میں عامر کا عروج اور زوال ایک ہی ٹیسٹ میں دیکھنے کو ملا

قومی ٹیم کے فاسٹ بولر محمد عامر نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک روزہ اور ٹی ٹونٹی کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرتے رہیں گے۔

پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق عامر کا کہنا تھا کہ ’کرکٹ کے روایتی فارمیٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرنا میرے لیے اعزاز تھا اور میں اگلے برس ہونے والے آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹونٹی میں شرکت کے لیے اپنی فارم اور فٹنس برقرارکھنے کی کوشش کروں گا۔‘

عامر کے مطابق ٹیسٹ کرکٹ سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ ان کے لیے آسان نہیں تھا البتہ انھوں نے کہا کہ ’میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا مشکور ہوں جنھوں نے مجھے اپنے سینے پر گولڈن اسٹار لوگو لگانے کا موقع دیا۔‘

عامر کی کمی محسوس ہو گی‘

پی سی بی کے ایم ڈی وسیم خان کا اس موقع پر کہنا تھا کہ محمد عامر کا شمار موجودہ دور کے بہترین ٹیسٹ بولرز میں ہوتا ہے۔ان کے مطابق: ’قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کو گراؤنڈ اور ڈریسنگ روم میں محمد عامر کی کمی محسوس ہو گی۔‘مزید پڑھیں

عامر کی حاضر دماغی نے سیریز جتوا دی

عامر کی رفتار برقرار لیکن سوئنگ میں کمی

’پھر وہ ایسا عامر بنا کہ پاکستان کو بچا لیا‘

ایک سال میں تین وکٹیں، پرانا عامر کہاں گیا

ٹیسٹ میچوں کے اعداد و شمار‘

جولائی 2009 میں سری لنکا کے خلاف گال میں اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کرنے والے محمد عامر نے 36 ٹیسٹ میچوں میں 30 کی اوسط سے 119 وکٹیں حاصل کیں۔

اپریل 2017 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کنگسٹن میچ میں 44 رنز کے عوض چھ وکٹیں محمد عامر کی ٹیسٹ کرکٹ میں بہترین بولنگ تھی۔

محمد عامر نے اپنے ٹیسٹ کریئر میں مجوعی طور پر چار مرتبہ ایک اننگز میں پانچ یا اس سے زائد وکٹیں حاصل کیں۔ البتہ ایک میچ میں 10 وکٹیں لینے کا اعزاز ان کے پاس موجود نہیں ہے۔

ریٹائرمنٹ کا فیصلہ غیر متوقع نہیں

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر محمد عامر کا ٹیسٹ کرکٹ کو خیرباد کہنے کا فیصلہ غیر متوقع نہیں ہے کیونکہ انہیں اس بات کا اچھی طرح اندازہ ہوچکا ہے کہ ان کے لیے تینوں فارمیٹس میں بیک وقت کھیلتے ہوئے کارکردگی کا معیار برقرار رکھنا بہت مشکل ہے۔

محمد عامر جب اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث ہوکر بین الاقوامی کرکٹ سے دور ہوئے تھے تو ان کی عمر صرف اٹھارہ برس تھی۔

سنہ 2010 کے لارڈز ٹیسٹ تک انھوں نے صرف 14 ٹیسٹ میچز میں 51 وکٹیں حاصل کررکھی تھیں جن میں تین مرتبہ اننگز میں پانچ وکٹیں لینے کی قابل ذکر کارکردگی بھی شامل تھی۔
عامر کی بولنگ میں پہلے جیسی کاٹ نہیں

اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے نتیجے میں محمد عامر کے کریئر کے پانچ سال ضائع ہوگئے۔

انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کے بعد حالات ان کے لیے پہلے جیسے ہرگز نہیں رہے جس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کے بعد سے عامر نے 22 ٹیسٹ میچ کھیلے جن میں ان کی وکٹوں کی تعداد صرف 68 رہی۔

پابندی کے بعد وہ صرف ایک بار اننگز میں پانچ یا زائد وکٹ حاصل کرپائے۔

اگرچہ اس عرصے میں فیلڈرز نے بھی کئی کیچ چھوڑ کر ان کی وکٹوں کی تعداد میں اضافہ نہیں ہونے دیا لیکن مبصرین اور شائقین نے یہ بات ضرور محسوس کی کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کے بعد محمد عامر کی بولنگ میں پہلے جیسی کاٹ نہیں رہی تھی۔

کرکٹ کے کھیل میں ایسا کم ہی دیکھنے میں آتا ہے کہ کسی کھلاڑی کا عروج اور زوال ایک ہی میچ میں دیکھنے کو ملے البتہ محمد عامر کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا۔

اگر کسی کھلاڑی کا نام لارڈرز کرکٹ گراؤنڈ کے اونرز بورڈ پر آ جائے تو یہ اس کے لیے بڑے اعزاز کی بات ہوتی ہے۔

محمد عامر نے 24 جولائی سنہ 2010 کو انگلینڈ کے خلاف لارڈز میں کھیلے جانے والے سیریز کے چوتھے میچ میں کے پہلے ہی روز چھ انگلش بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھا کر ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی پچاس وکٹیں مکمل کر لیں۔

لیکن اس کے بعد جو ہوا وہ پاکستان کرکٹ کا سیاہ باب ہے۔ برطانوی میگزین نیوز آف دی ورلڈ نے بکی مظہر مجید اور اپنے رپورٹر کی ایک ویڈیو شائع کی جس میں وہ انھیں آنے والے ٹیسٹ میچوں میں سپاٹ فکسنگ کے حوالے سے بتا رہے ہیں۔

سپاٹ فکسنگ کرنے والے کھلاڑیوں میں محمد عامر، محمد آصف اور سلمان بٹ شامل تھے۔ جس کے بعد آئی سی سی میں بیک وقت کیس چللایا گیا نے محمد عامر پر پانچ سال کے لیے کسی بھی قسم کی کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کر دی گئی جبکہ برطانوی عدالت کی جانب سے انھیں چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

یہ چھ وکٹیں اس وقت تک عامر کے کریئر کی بہترین کارکردگی تھی۔ وہ 18 برس کی عمر میں شہرت کی بلندیوں پر تھے لیکن صرف ایک غلطی ان کے زوال کا باعث بن گئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں