6

انگلینڈ 2030 تک کیسے مکمل طور پر سگریٹ نوشی ختم کر سکتا ہے؟

سنہ 1074 میں برطانیہ میں بالغ افراد کی تقریباً آدھی تعداد سگریٹ نوش تھی۔ بہت سوں کے لیے دھویں سے بھرے گھر، شراب خانے یا دفتر میں وقت گزارنا ایک عام معمول تھا۔

اب برطانیہ میں سگریٹ نوشوں کی تعداد کم ہو کر کل آبادی کا 15 فیصد رہ گئی ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ انگلینڈ میں سنہ 2030 تک سگریٹ نوشی مکمل طور پر ختم کر دی جائے۔

کون لوگ سگریٹ پیتے ہیں؟

کم آمدنی والے افراد کا سگریٹ نوشی کی علت میں مبتلا ہونے کا امکان دوسروں سے زیادہ ہوتا ہے۔ سوشل ہاؤسنگ (سرکاری سطح پر کم آمدن لوگوں کو فراہم کی جانے والی رہائش گاہوں) میں مقیم ہر تین میں سے ایک فرد جبکہ مزدور طبقے سے تعلق رکھنے والے ہر چار میں سے ایک فرد سگریٹ نوشی کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’سگریٹ نوشی اچانک ترک نہ کریں‘

’سگریٹ نوشی کی کوئی محفوظ حد نہیں‘

’سگریٹ نوشی اندھے پن کا باعث بن سکتی ہے‘

اس کے برعکس پروفیشنل یا مینجر کی سطح پر یہ کام ہر 10 میں سے ایک شخص کرتا ہے۔

ملک کے مختلف حصوں میں بھی سگریٹ نوشی کی شرح مختلف ہے۔ مثال کے طور پر ایسٹ ڈیون میں 8.6 فیصد جبکہ ڈنڈی میں 21.8 فیصد افراد سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔

سگریٹ پینے والی حاملہ عورتوں کے حوالے سے علاقائی تقسیم بھی حیرت انگیز ہے۔

انگلینڈ میں 10 میں سے ایک حاملہ عورت سگریٹ نوشی کرتی ہیں۔ لیکن یہاں بھی مختلف اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ مثلاً لندن کے امیر علاقوں میں یہ تناسب 50 میں سے ایک ہے جبکہ بلیک پول جیسے پسماندہ علاقے میں ہر چار میں سے ایک حاملہ عورت سگریٹ نوشی کرتی ہے۔

ذہنی مسائل سے دو چار لوگ بھی اسی طرح متاثر ہوئے ہیں۔ اس گروہ میں دوسری آبادی کے مقابلے میں 50 فیصد سے زیادہ امکانات ہیں کہ وہ سگریٹ نوشی کریں اور آہستہ آہستہ یہ خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔

کیونکہ سگریٹ نوشی ایک منفرد طریقے سے نقصان پہنچاتی ہے اس لیے اس سے دیگر بیماریاں جنم لیتی ہیں اور جلد موت واقع ہو سکتی ہے

ایک تحقیق کے مطابق سگریٹ نوشی ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار افراد کی متوقع عمر میں کمی کی دو تہائی وجہ ہے اور اس سے کم از کم 10 سال زندگی کم ہو سکتی ہے۔ ان نتائج کا اطلاق دوسرے ممالک پر بھی ہو سکتا ہے۔

ایک اور تحقیق کے مطابق انگلینڈ اور ویلز کے غریب ترین علاقوں کے 35 سے 69 سال کی عمر کے مردوں کے امیروں کے مقابلے میں دو گنا زیادہ جلدی مرنے کا امکان ہے اور اس بات کا امکان پانچ گنا زیادہ ہے کہ ان کی اموات سگریٹ نوشی سے ہوں گی۔

یہ گروہ زیادہ رسک پر کیوں ہیں؟

حالیہ برسوں میں برطانیہ نے ایسی پالیسیاں متعارف کروائی ہیں جن سے سگریٹ نوشوں کو یہ عادت ترک کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور وہ دوسروں کو سگریٹ نوشی اختیار کرنے سے روکتی بھی ہیں۔

سنہ 2007 میں سگریٹ نوشی پر پابندی کا اعلان کیا گیا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ سگریٹ خریدنے والے کی عمر کی حد 18 سال کر دی گئی تھی۔

سگریٹ پر ٹیکسوں کو بھی 80 فیصد تک اضافہ کیا گیا اور اس کے اشتہارات پر پابندی لگا دی گئی۔

پورے ملک میں سگریٹ نوشی ترک کرنے کے لیے سہولیات متعارف کرائی گئیں اور اس کی وجہ سے مجموعی طور پر سگریٹ نوشی کے تناسب میں کمی واقع ہوئی۔

تاہم یہ تبدیلی غریب اور ذہنی امراض سے دوچار افراد میں کم نظر آئی چاہے وہ دوسرے گروہوں کی طرح سگریٹ نوشی ترک ہی کرنا چاہتے ہوں۔

اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔

اس طرح کے گروہوں کا سگریٹ نوشی پر زیادہ انحصار ہو سکتا ہے اس لیے ان کے لیے اسے ترک کرنا ذرا مشکل ہوتا ہے۔ یہ بھی امکان زیادہ ہوتا ہے کہ وہ دوسرے سگریٹ پینے والوں کے درمیان زیادہ رہیں اور اس طرح ان کے لیے یہ عادت ترک کرنا مشکل ہو۔

اس کے ساتھ ساتھ سنہ 2014-15 اور 2017-18 میں انگلینڈ میں سگریٹ نوشی ترک کرنے کی سروسز کی فنڈنگ میں 30 فیصد کمی سے بھی اس مہم پر اثر پڑا ہے۔

سگریٹ نوشی روکنا کیوں ضروری ہے؟

پسماندہ ترین طبقے میں سگریٹ نوشی کو کم کرنا صحت کے متعلق عدم مساوات کو کم کرنے کے لیے سب سے ضروری طریقوں میں سے ایک ہے۔

متوقع زندگی کو مرض اور بیماری کے ذریعے کم کرنے کے علاوہ سگریٹ نوشی ذہنی صحت پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔

اسے ترک کرنے سے ڈپریشن، گھبراہٹ اور ذہنی دباؤ میں کمی واقع ہوتی ہے جبکہ مجموعی طور پر زندگی کا معیار بہتر ہوتا ہے۔

سگریٹ نوشی کی لت ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوتی ہے جس کا مطلب ہے کہ جو بچے سگریٹ نوشوں کے درمیان پرورش پاتے ہیں اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ آگے چل کر سگریٹ نوش بنیں۔

دوسرا یہ کہ سگریٹ نوشی ایک مہنگی عادت ہے اور انسان کو غربت کے چکر میں پھنسا سکتی ہے۔

اگرچہ ماضی کے مقابلے میں اب کافی کم لوگ سگریٹ پیتے ہیں لیکن اب بھی برطانیہ میں ان کی تعداد تقریباً 70 لاکھ ہے۔

ہر سال صرف انگلینڈ میں 80 ہزار افراد سگریٹ نوشی کے اثرات کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں اور جلد موت کا سبب بنے والے عناصر میں سے یہ پہلے نمبر پر ہے۔

یومیہ 200 اموات کی وجہ سے یہ ایسے ہی ہے جیسے کہ ایک جہاز روزانہ گر کر تباہ ہو گیا ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں