20

مردہ ضمیری

عوامی عدالت
تحریر (امجدفاروق) 25.07.19
مردہ ضمیری
ضلع سدھنوتی کے اندر پے در پے قتل کی لرزہ خیز وارداتیں لوگوں کا قانون سے اعتماد اٹھنا اور حکمران طبقے کی خاموشی آخر ایسا کیوں ہے غفورا کافی دنوں سے خاموش بھی اور فکر مند بھی ہٕے کہ کیا ہم واقعی ترقی کے بجاٸے پتھر کے دور سے نکلتے نکلتے واپس پتھر کے اُس کونے پر نہیں پہنچ گٸے جہاں اب ہم سے جنگلی درندے بھی پناہ مانگتے پھر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب یہ لفظ ہم سے لے کر ان بد نما انسانوں کے سپرد کر دیا جاٸے جو درندگی کے نام کو لاکھوں میل پیچھے چھوڑ گٸے جن کے نزدیک انسان کی کسی غلطی کی فوری سزا پہلے اللہ کے بناٸے ہوٸے اعضإ کلہاڑی یا آری سے کاٹنا پھر اس کے باقی جسم پر پٹرول چھڑک کر آگ لگانا ہے پھر قانون میں رپورٹ درج ہوتی ہے پھر انوسٹیگیشن شروع ہوتی ہے پھر ایک ماہ کے بعد کیس ٹھنڈا پڑتا ہے پھر دوسرا کوٸی کسی ماں کا بیٹا یا بیٹی کسی جنگل میں برہنہ حالت میں ملتے ہیں قارٸین جہاں میں قانون کو کوستا رہا ہوں آج بھی قانون کی بات ضرور کرونگا بے حس حکمرانوں کی بھی کلاس لونگا لیکن آپ اس معاشرے کے سوٹیڈ بوٹیڈ بے حس چہروں کو تو دیکھیں اور سنیں غفورا کہتا ہے یہ باہر سے چمکیلے اور صاف شفاف ڈرسنگ والے لوگ ان کے اندر بھی انسانیت دم توڑ چکی ہے جو قتل کے بعد مصلحت کا شکار ہو کر قاتلوں کو برا بھلا کہنے کے بجاٸے اپنے ہونٹ سلاٸی کرکے تماشاٸی کا کردار ادا کرتے ہیں ہر انسان یہ سوچتا ہے کہ قتل کی مذمت بھی دوسرا کرے اور قانونی کارواٸی بھی کوٸی اور کرے ہم قاتل کو بھی خوش رکھیں اور مقتول کے ساتھ بھی ہمدردی رکھیں اس کو کہتے ہیں کہ اخلاقیات کا جنازہ نکلنا پڑھے لکھے ایک ایک لاکھ پچاس پچاس ہزار تنخواہ لینے والا طبقہ بالکل بے حس بنا بیٹھا ہے انسانیت دم توڑتی جا رہی ہے ہم غیر مسلموں کو ظلم کرنے پر گالیاں بکتے ہیں برا بھلا کہتے ہیں اور جب ہمارے معاشرے کے اندر انسانیت سوز ظلم ہو اور سفاکیت کی تمام حدود کو پھلانگا جاٸے تو ہمیں رشتے داریاں آڑے آتی ہیں اور ہم مصلحت کا شکار ہو کر کسی اور مقتول کی ڈیڈ باڈی پر مگرمچھ کے آنسو بہا کر پھر خاموش ہو جاتے ہیں تھو ہے غفوار جذباتی انداز میں اس معاشرے کے بے حس لوگوں کے ضمیروں کو جھنجوڑتا رہا اور میں خیالات کی دنیا میں چلا گیا کہ کیا اس معاشرے کے اندر کوٸی محفوظ رہا سب کے گھروں میں ماٸیں بیٹیاں بہنیں بھاٸی موجود ہیں ایک لمحے کے لیے سب غور کریں کہ اگر ہم نے اس ظلم کو نہ روکا اور حکمران طبقے کے خلاف قانون سازی کے لیے دباو نہ ڈالا تو کیا کل یہ سفاگیت ہمارے گھروں تک نہیں پہنچے گی کیا ہم اس انتظار میں کھڑے ہیں یا بیٹھے ہیں کہ کل جب ہمارے اپنے بچے یا بچی کی لاش کہیں پڑی ہو گی تو ہم احساس کرینگے کیا اُس وقت ہم یہ ازالہ کر سکیں گے کہ ہماری بے حسی نے ہمارا جوان بیٹا چھین لیا یا ہماری جوان بیٹی درندوں کی درندگی کا شکار ہو گٸی قارٸین یاد رکھو ہر کوٸی اپنا حصہ ڈالو ایک تو رات کو اپنی اولادوں کا پہرا دو اُنکی خبر گیری کرو کن دوستوں کے ساتھ ہے اُسکا پتہ کرو ورنہ آج کی مار انہی دوستوں کی وجہ سے ہے جو اپنی ہوس مٹانے کے لے کسی دوسرے کو قربانی کا بکرا بناتے ہیں اگر اس معاشرے کو سدھارنا ہے تو اپنے اپنے محلے کی میٹنگ کال کرو وہاں مل بیٹھے کر اخلاقی قانون بناو سزا جزا کا تعین کرو ورنہ یہ جو آگ لگ چکی ہے یہ تمھارے گھروں تک بھی پہنچے گی اور اُس وقت تمھارے پاس بھاگنے کو راستہ بھی ہیں ہو گا اس تحریر کو لکھ اس لیے رہا کہ پڑھ کر میرٕے قارٸین اپنی مسجدوں کے اماموں سے بھی کہیں گے کہ اب جمعہ میں اس ٹاپک کو بھی شامل رکھ کر بات کریں ورنہ ہم برباد ہو جاٸینگے غفورا کب تک تمھارے ضمیروں کو جھنجوڑتا رہیگا آخر آپ کو بھی اللہ پاک نے سوچنے بولنے اور لکھنے کی اسطاعت دے رکھی ہے کب تک تماشاٸی بنے زندگی گزارو گے اور کب تک ان لیڈروں کے دم چھلے بن کر تعریفوں کے پُل باندھتے رہو گے جو ایک قانون اس بارے میں نہیں بنا سکے اور نہ ہی تم نے ان مقبول لیڈران سے کبھی قانون سازی کی ڈیمانڈ کی تم بس لیڈر کے ہاتھ کے ساتھ ہاتھ ملا کر اُسکی خوشبو لیتے رہا کرو اور شا م کو چولہے کے سامنے بیٹھ کر بیوی بچوں کو سنایا کرو کہ تمھارا لیڈر تم سے ہاتھ ملاتا ہے تمھارا نام لے کے پکاراتا ہے تمھیں کچی سڑک دینے کا اعلان کر کے گیا تمھیں کالے پاٸپ کے دو بنڈل دینے کا وعدہ کر کے گیا ہے ۔ جو کالے پاٸپ تم لے کر چارپاٸی کے نیچے چھپاو گے یا کہیں چھت پر ڈال کے تعریفیں کرنے لگو گٕے خدا راہ بہت ہو گیا اب چھوڑا ان چھوٹی چھوٹی لالچوں کو اب ان لیڈروں سے قانون کی حکمرانی مانگو تاکہ کل تمھاری نسل محفوظ رہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں