18

موسمی و ماحولیاتی تبدیلیاں اور پاکستان

!موسمی و ماحولیاتی تبدیلیاں اور پاکستان

عابد ہاشمی ٗ آزاد کشمیر

پاکستان میں ہونے والا مون سون اگر چہ شدید گرم موسم میں بارشوں کی صورت میں راحت کا سامان لے کر آیا۔ اِن مون سون بارشوں سے آنے والے سیلابی ریلوں ٗلینڈ سلائنڈنگ نے تباہی مچا دی۔ کرہ ارض پر بالعموم موسمی و ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہمیں بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے۔موسمیاتی تبدیلی دُنیا کے لیے ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا۔ امریکا کو طوفانی بگولوں اور آفت انگیز سمندری طوفانوں سے ہونے والی تباہ کاریوں کا سامنا کرنا پڑ ا۔لاطینی امریکا کے ممالک برازیل، ارجنٹائن، چلی، پیرواوربولیویا میں طوفانی بارشوں کی وجہ سے آنے والے سیلابوں نے اودھم مچا دیا تھا۔غیر معمولی موسمی حالات کی وجہ سے ہونے والے نقصانات سے کئی افریقی ممالک، چین اور روس وغیرہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ کئی تو شدید برف باری ٗ آندھی ٗ طوفان ٗ کئی شدت سے گرمی یہ موسمیاتی تبدیلیاں انسانی زندگی اجیرن بنا رہی ہیں۔

سائنسدان ٗ ٹیکنالوجی کے ماہرین کااِن موسمی تبدیلیوں کے حوالے سے کہنا ہے کہ دُنیا بھر کے ماحول کو کاربن ڈائی آکسائیڈ کی زیادتی نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ دُنیا بھر میں تیل ٗگیس کے بڑھتے ہوئے استعمال نے اس مسئلہ کو پیچیدہ تر کر دیا ہے۔ توانائی کے متبادل ذرائع نہ ہونے کی بنا ء پر اس مسئلے کو حل نہیں کیا جا سکتا۔ موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے دُنیاکے مختلف ممالک میں خوفناک سیلاب آئینگے۔ گرمی کی شدید ترین لہر پیدا ہو گی، اچانک آگ بڑھک اٹھے گی اور قحط کا سامان ہو گا۔ ایک تحقیق کیمطابق1880ء کے بعد 2000ء سے موسمی تبدیلیوں میں تیزی واقع ہوئی۔ 2005ء میں دُنیا کے اکثر ممالک ان تبدیلیوں سے متاثر ہوئے۔ 2010 اور 2011 میں اس میں مزید شدت آئی۔2010میں پاکستان کو ایک خوفناک تاریخی سیلاب کا سامنا کرنا پڑا۔ 2011 میں جنوب مغربی آسٹریلیا کوخشک سالی کا سامنا کرنا پڑا۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کے اندازوں کیمطابق 2050 عیسوی تک بنگلہ دیش اور پاکستان میں لاکھوں انسان ایسے مقامات پر زندگی بسر کر رہے ہونگے جو منفی ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے نہایت خطرناک ہونگے۔ اِس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اِنسانی نسل کو اِس وقت سب سے بڑا خطرہ ماحولیاتی تبدیلی سے ہے۔ امسال کی طرح شہروں میں آب نکاسی نہ ہونے سے کئی دکانیں مکان متاثر ہوتے تو دیہی علاقوں میں لینڈ سلائنڈنگ سے کئی گھرانے اجڑتے ہیں۔ وادیِ کشمیر کی لیسوا میں لینڈ سلائنڈ نگ سے کئی انسانوں جانوں کے ضیاع کے علاوہ متعدد گھر صفحہ ِ ہستی سے مٹ گئے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ماضی میں بھی انسان کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ انسان کے اپنے ہی پیدا کردہ تباہ کن حالات کا سامنا کررہے ہیں۔ اکثر ملکوں کے لئے ماحولیاتی تبدیلی زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکی ہے۔ دُنیا اِس مقام سے بہت دور ہے جہاں اسے اصل میں ہونا چاہئے تھا۔ وطن عزیز کو بھی ماحولیاتی تبدیلی کے باعث شدید خطرات کا سامنا ہے۔ ملک کے اکثر علاقوں کے موسم میں تبدیلی ہوتی ہیں۔غیر موسمی بارشوں اور گلیشیرکے پگھلنے سے سیلاب آتے ہیں جس سے فصلوں اور انسانیٗ حیوانی زندگی کو نقصان پہنچتا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث دُنیا نازک موڑ پرآن پہنچی۔ موسمی تبدیلیوں کے خطرات ان ممکنہ خطرات کو کہا جاتا ہے جو موسم کی تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہونے والی مختلف حالتوں، آفات اور صورتوں سے لاحق ہو سکتے ہیں۔

دُنیا کی سلامتی کو درپیش خطرات میں موسمی تبدیلی بڑے خطرے میں سے ایک ہے۔ رپورٹ کے مطابق موسمی تبدیلی کے باعث سیلاب اور خشک سالی میں اضافے کے ساتھ ناقابل اعتبار، متضاد موسم انسانی رہن سہن اور فصلوں کی تباہی کا باعث ہو سکتے ہیں۔ پاکستان موسمی تبدیلیوں سے متاثر ممالک میں شامل ہے جہاں کہیں تو سخت ترین سرد موسم کے ریکارڈ ٹوٹتے ہیں تو کہیں گرمی نے خطہ کو پگھلا کر رکھ دیا۔ کہیں سیلابوں اور طوفانوں نے تباہی مچائی تو کہیں طوفانی بارشوں نے بے حال کردیا۔پاکستان میں رہنے والوں کی ایک بڑی تعداد نہ صرف ماحولیاتی تبدیلیوں سے براہ راست متاثر ہو رہی ہے بلکہ ان کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے نقل مکانی اور ذرائع آمدن کی تبدیلی جیسے مشکل فیصلے کرنے پر بھی مجبور ہے۔ پاکستان اب بھی ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ 907 ملین ڈالر (تقریباَ 95 ارب روپے) کا نقصان ہو رہا ہے، جو سالانہ جی ڈی پی کا 0.0974 حصہ بنتا ہے۔اور 2ہزارکے قریب لوگوں زندگی بازی ہارجاتے ہیں۔جوں جوں درجہ حرارت میں اضافہ ہو گا ویسے ویسے ہی زمین پر زندگی کم ہوتی جائے گی۔

اگلے چند برسوں میں ہم نے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو محدود کرنے سمیت دیگر اہم اقدامات نہ کئے تو اس کے بعد سیلاب، طوفان، موسمیاتی شدت، خشک سالی، فصلوں کی تباہی کا عمل تیز ہوسکتا ہے جس کے پورے سیارے پر غیرمعمولی منفی نتائج برآمد ہوں گے۔ جرمن واچ کے مطابق پاکستان دُنیا کے اْن سات ممالک میں شامل ہے جو کلائمیٹ چینج سے شدید متاثر ہوں گے۔موسمیاتی تبدیلی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ دو دہائیوں میں (2010سے2030) کے دوران موسم میں حیران کن اور ڈرامائی تبدیلیاں واقع ہوں گی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس طرح 1950سے1990کے دوران چار مرتبہ دُنیا کے مختلف خطوں کو شدید ترین گرمی کا شکار ہونا پڑا اسی طرح ان دو دہائیوں میں پھر دُنیا کے مختلف علاقوں میں شدید ترین گرمی پڑنے کا امکان ہے۔ گرمی کا شکار ہونیوالے ملکوں میں امریکہ بھی شامل ہے۔ امریکا میں گزشتہ 80 برس کے اعداد و شمار بھی رپورٹ کی تصدیق کرتے ہیں، جہاں اگست اور ستمبر میں بچوں کی شرح پیدائش میں اضافہ جب کہ زیادہ درجہ حرارت کے حامل موسم گرما کے مہینوں میں شرح پیدائش میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ حدت کی لہر، جو ماحولیاتی تبدیلیوں سے جڑی ہے، شرح پیدائش میں کمی کا سبب بن رہی ہیں، حالاں کہ سال کے گرم موسم میں جنسی سرگرمیوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یعنی زیادہ جنسی سرگرمی کے باوجود بچوں کی پیدائش میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔

عالمی بینک کی رپورٹ کیمطابق موسمیاتی تبدیلی سے دُنیا کوپانچ بڑے خطرات کا سامنا ہے جن میں قحط، سیلاب، سمندری و برفانی طوفان، سطح سمندرکی تبدیلی اور زرعی پیداوار میں کمی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لینے والوں کا یہ خیال بھی ہے کہ یہ ایک ٹائم بم ہے۔لندن کی انوائرمنٹل جسٹس فاؤنڈیشن کے مطابق دنیا میں 26 ملین افراد موسمی تبدیلیوں کے باعث ہجرت پر مجبور ہوئے اور 2050ء تک 500 سے 600 ملین لوگ مزیدہجرت پر مجبور ہونے کے ساتھ شدید دیگر خطرات سے بھی دوچار ہوں گے۔سائنس دان عالمی حدت میں اضافہ کی بڑی وجہ گرین ہاؤس گیسوں کی بڑی مقدا ر کا فضاء میں اخراج قرار دیتے ہیں جبکہ حیاتیاتی ایندھن، قدرتی گیس، کوئلہ، تیل سے توانائی پیدا کرنے کے ماحول پر منفی اثرات انسانی سرگرمیوں سے کئی گنا زیادہ مضر رساں ہیں۔ کوئلہ توانائی کا ایک یونٹ پیدا کرنے میں قدرتی گیس سے 70 فی صد زائد کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں چھوڑ کر ماحول کو تباہ کرتا ہے۔

ہمارا بھی ماحول کی تباہی میں بنیادی کردار ادا ہے جن میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی،جنگلات کے رقبہ میں آگ،بلند و بالا عمارتیں،برھتی ہوئی آبادی،گاڑیوں کی بہتات وغیرہ شامل ہیں ماحولیاتی تبدیلیوں سے لاحق خطرات اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں زیر بحث آ چکے ہیں۔

پاکستان میں موسمی تبدیلیوں کے مہلک اثراث چند برسوں سے واضح ہونے کے باوجود اس حساس اور سنگین مسئلہ پر کوئی توجہ نہیں، اقوام متحدہ نے اپنے ماحولیاتی پروگرام میں 1989ء سے پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے جو سمندروں میں پانی کی بلند ہوتی ہوئی سطح کے باعث خطرات سے دوچار ہیں۔ ویب آف سائنس کے مطابق واٹر ٹاور آف ایشیا ہمالیہ، ہندوکش اور قراقرم، قطب شمالی و قطب جنوبی کے بعد برف کے سب سے بڑے ذخائر ہیں اور یہی پہاڑی سلسلے دریائے سندھ کی روانی کے ضامن بھی ہیں۔پاکستان کو دو طرح کے سنگین خطرات لاحق ہیں، شمال میں درجہ حرارت میں اضافہ کے باعث گلیشئیر پگھل رہے ہیں تو جنوب میں سمندری پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشیانو گرافی کے سربراہ آصف انعام کی تحقیق کے مطابق کراچی کے علاقے ملیر کے کئی حصے زیر آب آ چکے ہیں جبکہ 2050ء تک سندھ میں ٹھٹھہ اور بدین پانی میں ڈوب چکے ہوں گے۔

ماہرین ماحولیات متعدد مرتبہ اس خدشہ کا اظہار کر چکے ہیں کہ سمندر کی سطح میں تیزی سے اضافہ کے باعث 2060ء تک دو کروڑ سے زائد آباد ی کا شہر کراچی زیر آب آ سکتا ہے، سندھ سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں سمندر کی سطح میں اضافہ زیر زمین پانی میں کمی خشک سالی، سیلاب و دیگر موسمی تبدیلیوں سے جڑے مسائل کی وجہ سے ہزاروں گھرانے ہجرت کر چکے ہیں جبکہ متعد د گھرانے مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے آفت زدہ علاقوں میں بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

مستقبل میں موسمی تبدیلیوں کی ہولناکی سے لاکھوں خاندان ایسے ہی خطرات سے دوچارہو سکتے ہیں۔ صنعتی سرگرمیوں کے دو بڑے مراکز چین اور بھارت کے درمیاں میں واقع ہونے کے باعث پاکستان گوناگوں ماحولیاتی مسائل کا شکار ہو چکا ہے۔ پاکستان کی معیشت کا زیادہ انحصار پانی پر ہے جبکہ ملک میں زیر زمین پانی کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ کراچی سمیت ملک کے بڑے حصے کو صاف پانی میسر نہیں، پانی کے بحرا ن میں مبتلا اس ملک کی پانی سے متعلق کوئی پالیسی موجود نہیں۔ آبی ذخائر بنانے اور دریاؤں، ندی، نالوں کا پانی نامیاتی و صنعتی و دیگر آلودگی سے محفوظ رکھنا ہو گا۔

ہمارا ملک انہی ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔بدقسمتی سے پاکستان میں جنگلات اور درختوں کی تعدادخطرناک حد تک کم ہو چکی ہے اور باقی ماندہ جنگلات اور درخت تیزی سے صاف کیے جارہے ہیں۔

موجودہ جنگلات اور درختوں کو بچانا اور نئے جنگلات اور درختوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہوگا۔کیمیائی کھادوں،زہروں اوردیگر کیمیائی مادوں کااستعمال کم سے کم کرنا ہوگا اورزراعت میں ماحول دوست اور استقامت انگیز(Sustainable)طریقے اپنانا ہونگے۔بائیوڈائیورسٹی،ویٹ لینڈزاور جنگلی حیات کو محفوظ بنانا ہوگا۔گلیشئرز کوجوکہ تیزی سے پگھل رہے ہیں اورآ بی وسائل، دریاؤں،جھیلوں وغیرہ کومحفوظ بنانا ہوگا۔ہمیں سمندرکے پانی کوزرعی،صنعتی اور دیگر آلودگیوں سے زہریلا اور تیزابی ہونے سے بچانا ہوگا۔ ہمیں اپنے قدرتی وسائل پربوجھ کم سے کم کر کے ان کے استعمال کو استقامت انگیز بنانا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں