23

دو منہ والے

عوامی عدالت
تحریر (امجدفاروق) 03.07.19
دو منہ والے
معاشرے کی جہاں دیگر ناہمواریوں پر غور و فکر کا موقع ملتا ہے وہاں قارٸین کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ دنیا کے اس جنگل میں کیسے کیسے انسان نما بھڑٸیے بھی پاٸے جاتے ہیں جو چیر پھاڑ تو کرتے ہیں ہیں لیکن انکی چیر پھاڑ اور درندوں کی چیر پھاڑ میں فرق اتنا ہے کہ وہ کسی ایک جانور کو اپنی درندگی کا نشانہ بنا کر اپنے پیٹ کی آگ بجھاتے ہیں لیکن یہ انسان ایسا درندہ ہے جو چیر پھاڑ تو کرتا ہے لیکن پتہ بھی لگنے نییں دیتا کیونکہ یہ پورا دن غیبت کر کر کے ایک تو اپنے اندر بدبو کا ڈھیر بنا ہوتا ہے اور دوسری طرف جس کو میں دو منہ والے کا نام لیا یہی انسان نما بھیڑیا اگر سوساٸٹی کے اندر کوٸی اچھا کام کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اُس کے پیچھے ہاتھ دھو کے ایسے پڑا ہوتا ہے جیسے اس کی ڈیوٹی ہی صیح کاموں کی مخالفت کر کے معاشرے میں انتشار پھیلانا ہے بظاہر یہ زرک برک پوشاک میں رہنے والا پورا دن دوسرٕے کی پیٹھ کے پیچھے نفرت انگیز کلمات اور پھر جب وہی شخص جسکی یہ غیبت میں مصروف ہوتا ہے اُسکے ساتھ ملے گا تو اُس کی تعریفوں کے پل باندھ رہا ہوتا ہے کیونکہ میں نے معاشرے کی بیماریوں کا علاج کرنا ہے اس لیے کبھی کبھی ایسا موضوع ہی چھیڑتا ہوں کہ یہ دو منہ والے یہ تو یاد رکھیں کہ ان کی ان چالوں سے زمانہ بھی واقف ہے اور کاٸینات کا مالک تو ہے ہی جس شخص کے کام کی وجہ سے یہ دومنہ والا منافق خاٸف رہتا ہے اور مختلف حربے اور چالیں چل کے نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے یہ نہیں سوچتا کہ ایک ایسی طاقت بھی ہے جس نے عزت کو اپنے ہاتھ میں رکھا ہے اور وہی عزتیں دیتا ہے ۔کیونکہ اُس مالک کاٸینات کو پتہ تھا کہ جو انسان میں نے بنایا ہے یہ اگر بندگی کرے گا تو فرشتوں سے افضل اور جب یہی انسان شیطان کی پیروی کر کے درندگی پر اتر آٸیگا تو یہ خطرناک جنگلی درندوں کو بھی مات دے دے گا اور آج وہی ہو رہا ہے ہر جگہ سے کسی نہ کسی شخص کی مسخ شدہ لاش کہیں غیبت اور حسد سے زندہ معاشرے کا امن تباہ کرنا اس انسان نما درندے کی ہی کارستانیاں ہیں ۔بظاہر ہمدرد نظر آنے والا یہ مشکوک انسان جس کے شر سے معاشرے کے ہر شخص کو بچنا چاٸیے اور یہ یاد رکھنا چاٸے کہ جو بھیڑیا نما شخص آج پیٹھ پیچھے کسی کی براٸی بیان کر رہا ہے کل یہ عادت تمھاری پیٹھ پیچھے بھی کریگا کیونکہ یہ درندہ نہ خود امن میں رہ سکتا ہے اور نہ ہی کسی اور فرد کے لیے امن کا خواہاں ہوسکتا ہے یہ اپنی بری مستی میں ہمیشہ مست رہتا ہے یہی کینسر آج ہمارے معاشرے کے اندر اتنا سرائیت کر گیا ہے کہ ہر گھر میں فتنہ برپا ہے بازار میں جھگڑے سکون برباد کرنے والے یہ درندے تعداد میں انتہاٸی قلیل لیکن روزانہ کی بنیاد پر شیطان کی ڈیوٹی اس طرح نبھا رہے ہیں جیسے انکو شیطان نے تنخواہ پر رکھا ہوا ہے یہ بھیڑیے جھوٹ کو اس خوبصورت انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں جیسے اس سے بڑا سچ روٸے زمین پر موجود ہی نہیں اس معاشرے کے ہر نوجوان کو اصل جنگ اس انسان نما درندوں سے کرنا ہو گی کیونکہ میں جہاں تک پہنچا وہاں میں نے یہی دیکھا کہ ہر جگہ ایسے مکار اور جھوٹے غیبتی لوگوں کی وجہ سے ہی معاشرے کاامن داو پر لگا ہوا ہے قارٸین ایسے لوگ جہاں بھی ملیں جہاں یہ کسی کی پیٹھ کے پیچھے گفتگو کا آغاز کریں تو بس بندہ ٹھنڈے لہجے سے کہہ دے کہ اے دوسرے کی براٸی کرنے والے اور فتنہ فساد کرنے والے درندے میرے پیچھے کب تمھاری کمنٹری کا آغاز ہو گا کیونکہ اس فتنہ پرور شخص نے آپ ک اٹھ جانے کے بعد آپ کی ذات کا پوسٹمارٹم کرنا ہے کیونکہ جو آپ کے سامنے دوسروں پر بہتان بازی کر سکتا ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کو اس گھناونے رگڑے میں نہیں لاٸیگا اس جیسے انسان نما درندوں کے شہر میں تو شیطان بھی چکر نیں لگاتا کہ یہ انسانی شکل والا غیبتی شخص تو اس سے زیادہ خوب صورت انداز میں لوگوں کو ایک دوسرے سے ورغلا کر دور کرتا ہے ایسے لوگوں پر نظر ضرور رکھیں کیونکہ قارٸین یہ وہ درندے ہیں جو منشیات فروشوں سے بھی زیادہ خطرناک ہیں منشیات فروش تو آہستہ چھپ کر کوٸی وادات کرتے ہیں اور یہ انسان نما درندہ کبھی لوٹا پکڑے وضو خانے کے قریب اور کبھی بازار میں یا گھر بیٹھا ہوا بستی کی بستیاں اُجاڑ کر رکھ سکتا ہے منشیات فروشی لعنت لیکن اُس سے بڑا لعنتی وہ جو لوگوں کو جھوٹ بول بول کر تباہی و بربادی پھیلاتا ہے آج کے اس کالم کو پڑھتے ہوٸے ایسے لوگوں کے ماتھے پر پسینہ ضرور آٸیگا لیکن وہ فوری پسینہ صاف کرکے اپنا کام سٹارٹ کرینگٕے وہ تو سبق نہیں لینگے ہاں ان کے پاس جا کر بٹھنے والے ضرور سوچیں کہ کیوں ہم سب جانتے ہوٸے بھی اپنی نیکیاں دوسروں اور اُسکے گناہ اپنے سر ڈال کر جھوٹی تسکین حاصل کرتے ہیں ۔قارٸین ان بیماریوں کا حل ہو گیا تو معاشرے کے دیگر مساٸل میں کمی ضرور آٸیگی کیونکہ جب اچھے لوگ مل بیٹھ کر معاشرے کی ترقی کا سوچیں گٕے تو پھر حالات ضرور تبدیل ہوں گے ۔لیکن اگر اسی طرح دوسروں کے اچھے کاموں کو بھی روکنے کی ناکام کوشش کی جاٸیگی تو اچھا کام تو ہو کر ہی رہتا ہے ہاں آپ کی نیت سامنے ضرور آجاٸیگی اس تحریر پر ضرورسوچٸے گا اور اپنی اپنی اصلاح بھی کیجے گا ۔ اللہ نگہباں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں